3 اکتوبر، 2026، 4:48 PM

نماز کو زندگی کا عملی حصہ بنانا ضروری ہے، صدر پزشکیان

نماز کو زندگی کا عملی حصہ بنانا ضروری ہے، صدر پزشکیان

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ نماز کو محض ایک انفرادی عبادت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے زندگی میں جاری و ساری ثقافت میں تبدیل کیا جائے تاکہ اس کے اثرات اخلاق، عدل، خدمت، امانت داری، امید اور معاشرتی ہم آہنگی میں نمایاں ہوں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تینتیسویں قومی اجلاس نماز کے نام اپنے پیغام میں صدر پزشکیان نے شہید رہبر انقلاب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ کی فکر اور عملی زندگی میں نماز کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ اجلاس نماز کے مقام و اہمیت اور شہید رہبر کی سیرت کو سمجھنے کا ایک اہم موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کی سیرت میں نماز محض ایک شخصی فریضہ نہیں بلکہ خودسازی، امید، استقامت اور ایک صالح معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔

صدر پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ جس معاشرے میں نماز قائم کی جاتی ہے، اسے زیادہ اخلاقی، ذمہ دار، باوقار اور عدل و انصاف سے آراستہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں، جب ملک کو پہلے سے زیادہ سکون، امید، یکجہتی اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے، نماز کی ثقافت صبر، توکل، اتحاد اور احساسِ ذمہ داری کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نماز دل کو خدا کی یاد سے مطمئن کرتی، ایمان کو مضبوط بناتی، ارادے کو استحکام بخشتی اور انسان کے اندر امید کو زندہ رکھتی ہے۔ اسی لیے نماز کے اثرات انسان کی دیانت داری، امانت داری، حقوق العباد کی پاسداری، انصاف پسندی اور عوامی خدمت میں نمایاں ہونے چاہییں۔

صدر پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ نماز کی ثقافت کا آغاز خاندان اور تعلیمی اداروں سے ہوتا ہے اور پھر مسجد، جامعہ، کام کی جگہ اور معاشرے کے دیگر شعبوں تک پھیلتا ہے۔ ان کے بقول نئی نسل نماز کو صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ اپنے بڑوں کے کردار اور طرزِ عمل سے سیکھتی ہے، لہٰذا خاندانوں، ثقافتی اداروں اور سرکاری تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ محبت، حکمت اور مؤثر ابلاغ کے ذریعے نوجوان نسل کو نماز سے قریب کریں۔

انہوں نے کہا کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ نماز محراب سے نکل کر عملی زندگی کا حصہ بنے اور انسان و معاشرے کو اصلاح، فلاح اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔

صدر پزشکیان نے امید ظاہر کی کہ شہید رہبر کی فکر و سیرت سے رہنمائی لیتے ہوئے اور خاندانوں، تعلیمی و ثقافتی اداروں اور عوام کے تعاون سے نماز کی ثقافت اور اس کے مثبت اثرات ایرانی معاشرے میں مزید فروغ پائیں گے۔

News ID 1941839

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha